ابنا: ملک کی تقدیر کے مالک مجبور اور بے بس عوام کا کوئی پرسان حال نہیں اور ایسی صورت گھمبیر اور مایوس کن صورت حال میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے اور ہر نیا سانحہ شدید عدم تحفظ سے دوچار عوام پر نئی قیامت بن کر ٹوٹ رہا مگر ان کی فریاد سننے والا' انہیں انصاف و تحفظ فراہم کرنے والا اور سینکڑوں اجڑے ہوئے خاندانوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں اور کوئی سمت اور جائے گاہ ایسی نظر نہیں آتی جہاں سے یہ امید لگائی جاسکے کہ ان تکالیف اور مصائب ومشکلات کا کوئی حل نکل سکے گا۔ان حالات میں عوام کے پاس سوگ اور احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ حالانکہ حکومت و ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی و آئینی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ سانحہ مستونگ کے خلاف پورے ملک کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس سانحہ کا ازخود نوٹس لے کر سانحہ کے مرتکب مجرموں کو عبرتناک انجام سے دوچار کرے شیعہ علماء کونسل صوبہ بلوچستان کے صوبائی رہنمائوں سے ٹیلی فونک گفتگو اور سانحہ مستونگ پر اعلان کردہ سہ روزہ سوگ کے آخری روز سانحہ مستونگ کے شہداء کے لواحقین اور متاثرہ عوام کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ایک مدت سے پورا ملک اور اس کی عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ سرکاری ونجی املاک' اہم مقامات' مساجد' امام بارگاہیں' مزارات ' عید کے اجتماعات اور زائرین دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور ان کے ذہنوں میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخرکار ملک کی سلامتی اور استحکام کے دشمن یہ دہشت گرد کون ہیں؟ ان کے سرپرستوں کا اتاپتا کیا ہے؟ ان کی تربیت گاہیں کہاں ہیں؟ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ ماضی کے سانحات کے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟
علامہ ساجد نقوی نے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ ان حالات میں وحدت و اتحاد کے مضبوط اور موثر ہتھیار کے ذریعہ ان دہشت گردوں کا مقابلہ کریں اور اپنی صفوں میں یکجہتی اور اخوت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دے کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور عوامی قوت و طاقت کے ذریعہ ان سانحات پر پرامن اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر صدائے احتجاج بلند کریں.
........
/169